بھارت پورے خطے کو تباہی کی طرف لے جا رہا ہے، ڈاکٹر محمد فیصل

اسلام آباد: دفترخارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا ہے کہ بھارت پورے خطے کی تباہی کے راستہ پر ہے۔ موجودہ صورت حال پر اب بھارت کے اندر سے بھی آوازیں اٹھ رہی ہیں، اب بی جے پی کے لوگ کہہ رہے ہیں کہ 22 سیٹوں کے لیے خطے کو جنگ میں دھکیلا جارہا ہے۔

دفتر خارجہ میں بریفنگ کے دوران ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے بھارت کی جانب سے پلوامہ حملوں سے متعلق ڈوزئیر موصول ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ڈوزئیر کا مشاہدہ اور اس میں موجود قانونی شواہد کا جائزہ لیا جائے گا، اگر ٹھوس اور قابل عمل ثبوت ہوئے تو پاکستان کارروائی کرے گا، وزیراعظم عمران خان اس حوالے سے پہلے ہی واضح اعلان کرچکے ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان بھارت سے مذاکرات کیلئے تیار ہے تاہم اس میں دہشتگردی کے علاوہ دیگر موضوعات پر بھی بات ہونی چاہیے، بھارت ہماری امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھے، ہم پر جب جنگ مسلط کی گئی تو ہم نے جواب دیا، ہم نے پہلے بھی بھارت سے کہا ہے کہ آپ نہ صرف اپنے لیے بلکہ خطہ کے لیے بھی تباہی کے راستہ پر ہیں، انہوں نے کہا کہ موجودہ صورت حال پر اب بھارت کے اندر سے بھی آوازیں اٹھ رہی ہیں، اب بی جے پی کے لوگ کہہ رہے ہیں کہ 22 سیٹوں کے لیے خطے کو جنگ میں دھکیلا جارہا ہے۔

ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ اگر ابھی نندن جیسا واقعہ بھارت میں ہوتا تو صورتحال مختلف ہوتی، بھارت نے اپنے گرفتار پائلٹ کا معاملہ پاکستان سے اٹھایا ہے، اس کے بارے میں پاکستان کی پوزیشن واضح ہے، ابھی نندن محفوظ اور صحت مند ہے، اسے عوام نے پکڑا تھا اور فورسز نے بچایا ہے، اسے جنگی قیدی کا درجہ دینا ہے یا نہیں اس کا فیصلہ بعد میں ہوگا، جبکہ پائلٹ پر کون سا عالمی قانون یا کنونشن لگنا ہے اس کا فیصلہ ایک دو روز میں ہوجائے گا۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارتی وزیرخارجہ سشما سوراج او آئی سی میں جائیں گی تو وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی شریک نہیں ہوں گے، پاک بھارت کشیدگی پر دونوں ممالک عالمی برادی سے رابطے میں ہیں، اس موقع پر کس ملک کا کیا کردار ہو سکتا ہے وہ واضح نہیں، جن ممالک نے دہشت گردی کی بات کی ان پر پاکستان نے پوزیشن واضح کر دی ہے کہ ہم پہلے ہی نیشنل ایکشن پلان پر دہشتگردوں کیخلاف کارروائی کر رہے ہیں۔

بھارت کی پاکستان میں دراندازی اور دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملے کے دعوے سے متعلق ڈاکٹر محمد فیصل نے اگر دہشتگردی کا کوئی وجود تھا بھی تو بھارت کو بین الاقوامی سرحد کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں، اگر اس کا کوئی قانونی جواز گھڑا جائے تو پھر پاکستان بھی کل کسی پر حملہ کرسکتا ہے، پاکستان اپنے دفاع کے لئے کسی کی طرف نہیں دیکھ رہا، اپنے عوام اور افواج کی طرف دیکھ رہا ہے،  اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کو بالا کوٹ لیکر جائیں گے، ہم معصوم کشمیریوں پر ہونے والے مظالم سے اقوام متحدہ کو بھی آگاہ کریں گے۔

Comments are closed.