نوازشریف کی سزا معطلی اور اپیل پر نیب سے جواب طلب

اسلام آباد: ہائی کورٹ نے احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف نوازشریف کی اپیل اور سزا معطلی درخواست میں نیب جبکہ نیب کی اپیل پر نوازشریف کو نوٹس جاری کردیا۔ عدالت نے فلیگ شپ ریفرنس کا تمام ریکارڈ بھی طلب کرتے ہوئے سماعت تین ہفتوں کے لیے ملتوی کردی۔

اسلام آبادہائی کورٹ کے جسٹس عامرفاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی نے العزیزیہ ریفرنس فیصلے کے خلاف نوازشریف  کی اپیل اور  سزامعطلی درخواست پر سماعت کی۔ عدالت نے سزا معطلی کی متفرق درخواست منظور کرلی اور اضافی دستاویزات جمع کرانے کی اجازت دے دی۔ نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ احتساب عدالت نے فیصلہ جے آئی ٹی رپورٹ کی بنیاد پر سنایا۔ نواز شریف کو اثاثوں کا اصل مالک نہ ہونے کے باوجود سزا سنائی گئی۔ اپیلوں پر سماعت تو دیر سے مقرر ہوتی ہے اس لیے پہلے سزا معطلی کی درخواست سن لیں۔

جسٹس عامرفاروق نے ریمارکس دئیے کہ ابھی دونوں معاملات کو اکٹھا ہی رکھتے ہیں۔ ریکارڈ آنے دیں پھر دیکھ لیں گے فی الحال اپیل اور سزا معطلی کی درخواست کو الگ نہیں کر رہے۔ جب ضرورت محسوس ہوئی تو الگ کر دیں گے۔ عدالت نے العزیزیہ ریفرنس میں نوازشریف کی اپیل  اورسزامعطلی درخواست میں نیب کونوٹس جاری کرتے ہوئے مقدمے کا مصدقہ ریکارڈ طلب کر لیا۔ دوسری جانب عدالت نے العزیزیہ ریفرنس میں سزا بڑھانے کے لیے نیب کی اپیل پر نوازشریف کو نوٹس جاری کردیئے اور مصدقہ ریکارڈ  بھی طلب کرلیا ہے۔

 نیب پراسیکیوٹر اکرم قریشی نے دلائل دیتے ہوئے موقف اپنایاکہ احتساب عدالت نے فیصلے میں لکھا ہے کہ نیب نے اپنا کیس ثابت کردیا تو پھر نواز شریف کو بغیر کسی وجہ کے بری بھی کردیا گیا۔، اس ریفرنس میں حسن نواز اور حسین نواز کو اشتہاری قرار دیا گیا ہے اور عدالت نے دونوں کے دائمی وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے۔ عدالت نے استفسارکیاکہ نواز شریف کیخلاف فلیگ شپ ریفرنس کا مصدقہ ریکارڈ مل سکتا ہے؟ نیب پراسیکیوٹرنے جواب دیاکہ جی مل سکتا ہے اس پر جسٹس محسن اخترکیانی نے استفسارکیا کہ نوازشریف کب سے کب تک پبلک آفس ہولڈرنہیں تھے۔

 نیب پراسیکیوٹرنے جواب دیا کہ وہ 1999ء سے 2013ء تک عوامی عہدہ نہی رکھتے تھے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کیا یہ کمپنی برطانیہ میں بنی اور اس کا سارا منافع پاکستان آتا تھا؟نیب پراسکیوٹر جہانزیب بھروانہ نے کہا کہ ریکارڈ آنے دیں اس کو آپ خود دیکھ لیں گے۔ ویسے اس کے چیرمین بھی نواز شریف ہی تھے۔ جسٹس عامر فاروق نے  ریمارکس دئیے کہ مناسب رہے گا پہلے ریکارڈ لے آئیں۔ عدالت نے نیب سے نواز شریف کیخلاف فلیگ شپ ریفرنس کا مصدقہ ریکارڈ طلب کرتے سماعت تین ہفتوں کے لئے ملتوی کردی۔

Comments are closed.