آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل اسد درانی کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم

اسلام آباد:اسلام آباد ہائی کورٹ نے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دے دیا ہے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے کہا تھا کہ ای سی ایل میں اس لیے نام رکھا کہ ان کے خلاف انکوائری چل رہی ہے، سارا ریکارڈ دیکھا اس وقت اسد درانی کے خلاف کوئی انکوائری زیر التوا نہیں ۔ اسد درانی اب ایک عام شہری  ہیں اور آئین میں دیے گئے تمام حقوق حاصل ہیں ۔ وفاقی حکومت کے پاس کھلی چھوٹ تو نہیں کہ کسی کو بھی ای سی ایل میں ڈال دے۔

دوران سماعت ڈپٹی اٹارنی جنرل سید طیب شاہ عدالت کے سامنے پیش ہوئے، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہر من اللہ نے فریقین کو سننے کے بعد کیس کا فیصلہ سنایا۔وزارت دفاع نے آباد ہائی کورٹ میں کہا تھا کہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ کے ’انڈین خفیہ ادارے را کے ساتھ سنہ 2008 سے تعلقات ہیں اور وہ ملک دشمن سرگرمیوں میں بھی ملوث ہیں۔

وزارت دفاع کا کہنا تھا کہ اسی بنیاد پر ان کا نام ای سی ایل سے نہیں نکالا جا سکتاتاہم اسد درانی ان الزامات کو ماضی میں کئی بار مسترد کر چکے ہیں۔

Comments are closed.