لوہے کا چناہوں،چبانا اتنا بھی آسان نہیں

تحریر: عمران اعظم

اسلام آباد: قومی اسمبلی میں عمران خان کی مزاحمت آئندہ دو سے تین روز تک جاری رہ سکتی ہے،تحریک عدم اعتماد پر بحث کے لیے بیرونی سازش کے محرکات کو ایوان کے سامنے رکھا جائے گا اور پھر حکومت کی جانب سے لمبی لمبی اور جارہانہ تقاریر کا آغاز ہو جائے گا جو دو سے تین روز بھی چل سکتی ہیں۔ سپریم کورٹ نے بھی رولنگ اس بنیاد پر کالعدم قرار دی ہے کہ ڈپٹی اسپیکر نے بحث کروائے بغیر رولنگ دے دی اور اپنا مائنڈ اپلائی نہیں کیا،اب تحریک انصاف اسی کو جواز بنا کر بحث کا کھیل خوب کھیلے گی۔

اس دوران حکومت کی بھرپور کوشش ہو گی کہ اپوزیشن کو اس حد تک مشتعل کر دیا جائے کہ ایوان میں دنگا فساد ،مارکٹائی ہو اور اسے جواز بنا کر اسپیکر  اپنے حاصل اختیارات بروئے کار لائیں اور دونوں اطراف کے کم سے کم پچاس سے ساٹھ اراکین  پر جاری سیشن میں شرکت پرہی پابندی لگا دی دی جائے،چونگہ 172 کے نمبرز اپوزیشن نے پورے کرنے ہیں اس لیے حکومت کے جتنے لوگوں پر پابندی لگ جائے مسلہ نہیں اور اسپیکر کہیں گے دیکھیں میں نے دونوں اطراف کے اراکین پر پابندی لگائی ہے۔

اس سب کے بعد بھی اگر اپوزیشن بچ نکلتی ہے اور عدم اعتماد پر ووٹنگ کے ذریعے وزیر اعظم عمران خان کو فارغ کر دیا جاتا ہے تو پھر قائد ایوان کے لیے ووٹنگ سے پہلے نیا کھیل کھیلا جائے گا۔حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق منحرف اراکین کو ووٹ ڈالنے سے روک نہیں سکتی لیکن ووٹ ڈالنے یعنی جرم کا ارتکاب ہونے کے بعد انہیں شہباز شریف کو ووٹ دینے سے ضرور روک سکتی ہے،کیونکہ اگر وہ عمران خان کے خلاف ووٹ دیتے ہیں تو تریسٹھ اے ،کے تحت ڈی سیٹ ہونے کے لیے کارروائی کا فوری آغاز ہو جائے گا اور اسپیکر اسی کو بنیاد بنا لیں گے،لیکن اس میں ایک قانونی پہلو یہ بھی سامنے آئے گا کہ ان اراکین کے خلاف فیصلہ الیکشن کمیشن نے ایک ماہ کے اندر کرنا ہے اور پھر سپریم کورٹ میں اپیل کی صورت میں فیصلے کا وقت تین ماہ تک کا ہے۔ کیا فیصلہ آنے تک اسپیکر انہیں مزید ووٹنگ کے لیے روک سکتے ہیں؟ یہ سوال بھی اہم ہے تاہم اس میں اسپیکر کا پلڑا بھاری رہے گا۔اس سب سے بچنے کے لیے اپوزیشن شائد اپنے ہی 177 اراکین پر انحصار کرے،لیکن یہ بھی ہوسکتا ہے  کہ اپوزیشن کہے خان صاحب کو تو فارغ کریں اس کے بعد یہ اراکین ووٹ نہ بھی ڈال سکیں تو ہمارے پاس نمبرز پورے ہوں گے۔ویسے بھی منحرفیں ڈی سیٹ ہونے کے لیے تیار ہیں جس کے بعد وہ اگلے روز الیکشن جیت کر واپس ایوان میں آ سکتے ہیں۔

اس کیساتھ ایک مصدقہ خبر یہ بھی ہے کہ اسپیکر صاحب سپریم کورٹ میں ایک نظرثانی پیٹیشن دائر کر سکتے ہیں کہ چونکہ مبینہ غیر ملکی سازش کے نتیجے میں سامنے آنے والی تحریک عدم کی تحقیقات کے لیے ایک کمیشن قائم کر دیا گیا ہے جو 90 روز میں اپنا فیصلہ کرے گا،اس لیے اس صورت حال میں بحیثیت ،،کسٹوڈین آف دی ہاوس،، میں اپنے ممبران کو اس سازش کا شکار نہیں ہونے دے سکتا،لہذا سپریم کورٹ اپنے فیصلے پر نظرثانی کرتے ہوئے کمیشن کا فیصلہ آنے تک تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ موخر کر دے۔

قصہ المختصر ،ان سب ممکنات کے باوجود یہ نوشتہ دیوار ہے کہ اپوزیشن یہ معرکہ سر کرلے گی،دیر ،سویر ضرور ہو سکتی ہے،خان صاحب بھی اب ذہنی طور پر اپوزیشن لیڈر بننے کے لیے تیار ہو چکے ہیں لیکن اس سے پہلے وہ اپوزیشن کو خوب ناک رگڑوانا چاہتے ہیں تو اسٹیبلشمنٹ کو بھی پیغام دینا چاہتے ہیں کہ میں ،،لوہے کا چنا،، ہوں مجھے چبانا اتنا بھی آسان نہیں۔

Comments are closed.