اسلام آباد ہائیکورٹ نے پیمرا کو 10 جون تک نئے لائسنس اجرا سے روک دیا

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن کی درخواست پر پیمرا کو 10 جون تک نئے ٹی وی لائسنسز جاری کرنے سے روک دیا ہے۔ چیئرمین پیمرا اور بورڈ ممبرز کو موجودہ لائسنس ہولڈرز کے حقوق متاثر نہ ہونے سے متعلق حلف نامہ جمع کرانے کی ہدایت کر دی۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہرمن اللہ نے پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن کی پیمرا کے مزید ٹی وی لائسنس جاری کرنے کیخلاف درخواست پر سماعت کی۔ پی بی اے کی جانب سے فیصل صدیقی ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے اور موقف اپنایا کہ پاکستان میں صرف 80 ٹی وی چینلز کی صلاحیت موجود ہے۔ مزید ٹی وی لائسنس جاری کرنے سے موجودہ لائسنس ہولڈرز کے حقوق متاثر ہوں گے۔

 ان کا کہنا تھا کہ پیمرا نے اپنے حکم نامے میں یہ بات تسلیم کی ہے کہ مزید ٹی وی چینلز کی گنجائش ڈی ٹی ایچ سروس کے آنے تک مستقبل میں بن جائے گی۔ فی الحال صلاحیت موجود نہیں ہے۔ مزید ٹی وی چینلز کی وجہ سے کیبلز آپریٹرز کنگ میکر بن جائیں گے اور اپنی من مانی کریں گے۔ پیمرا کا یہ کہنا کہ جب چاہیں لائسنس جاری کر سکتے ہیں درست نہیں۔

فیصل صدیقی نے کہا کہ کیا پیمرا نے 124 کو ریگولرائز کرلیا جو 70 لائسنس اور جاری کررہے ہیں؟ پیمرا کا یہ کہنا کہ نئے لائسنس نہ دئیے تو پہلے والے ٹی وی چینلز کی اجارہ داری بن جائے گی درست نہیں کیونکہ 124 چینلز میں ایسا ممکن نہیں۔ پی بی اے 89 چینلز کی ایک ایسوسی ایشن ہے جن کا حق متاثر ہورہا ہے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ پیمرا ایسی پاور استعمال نہیں کرسکتا جس سے اظہار رائے کی آزادی پر قدغن آئے۔ پیمرا کے فیصلے سے توکنٹرول غیر رجسٹرڈ کیبل آپریٹر کے پاس چلا جائے گا۔ کیسے مطمئن کریں گے 124 ممبرز متاثر نہیں ہوں گے؟ پیمرا لائسنس دینا چاہتا ہے تو بیان حلفی دے کہ پہلے سے موجود چینلز کا حق متاثر نہیں ہوگا۔ چئیرمین پیمرا اور ممبران عدالت میں بیان حلفی دیں تو ہم اس کیس کو نمٹادیں گے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین پیمرا اور بورڈ ممبرز کو موجودہ لائسنس ہولڈرز کے حقوق متاثر نہ ہونے سے متعلق بیان حلفی جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے اور پی بی اے کی پرانی درخواست نمٹاتے ہوئے پیمرا کو نئے لائسنس دینے کے عمل سے روکنے کے لیے پی بی اے کی نئی درخواست پر 10 جون تک حکم امتناع جاری کردیا۔ کیس کی سماعت عید کے بعد 10 جون تک ملتوی کردی۔

Comments are closed.