سابق خاتون اول ، بیگم نصرت بھٹو 9 سال قبل 23 اکتوبر 2011 کو دبئی کے ہسپتال میں 82 برس کی عمر میں انتقال کر گئی تھی۔ پیپلز پارٹی قیادت اور کارکنوں سمیت ملک بھر کے جمہوریت پسند عوام ان کی برسی آج انتہائی عقیدت و حترام سے منا رہے ہیں۔ اس عہد کی تجدید کے ساتھ کہ بیگم نصرت بھٹو کی جمہوریت کے لیے دی گئی قربانیاں کبھی فراموش ہوں گی نہ رائیگاں جائیں گی ۔
بیگم نصرت بھٹو 1929 میں ایران کے شہر اصفہان میں پیدا ہوئیں اور سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو سے 1951 میں کراچی میں شادی ہوئی۔ ان کے چار بچے ہوئےجن میں بینظیر بھٹو، میر مرتضیٰ بھٹو، صنم بھٹو اور میر شاہنواز بھٹو شامل ہیں۔ نصرت بھٹو کی زندگی پر نگاہ ڈالیں تو سکھ کم اور دکھ بہت نظر آتے ہیں۔ ان کے شوہر سابق وزیراعظم ذوالفقارعلی بھٹو کو 51 سال کی عمر میں 4 اپریل 1979 کو فوجی ڈکٹیٹرجنرل ضیاالحق کی آمریت میں پھانسی دے دی گئی جسے آج تک عدالتی قتل قراردیاجاتاہے۔ ذوالفقارعلی بھٹوکو سزائے موت سنانے والے بینچ میں شامل ججز نے بھی بعد میں اس کا اعتراف کیا کہ فوجی حکومت نے ان پردباو ٖڈال کرذوالفقارعلی بھٹو کے خلاف فیصلہ کروایا۔

ان کے جواں سال بیٹے شاہنواز بھٹو کی ستائیس برس کی عمر میں فرانس میں مشکوک حالات میں موت وقع ہوئی۔ جب کہ ان کے بڑے صاحبزادے مرتضی بھٹو کو 1996 میں 42 برس کی عمر میں کراچی میں ایک مبینہ پولیس مقابلے میں شہید کردیا گیا۔بیگم نصرت بھٹو کی بڑی صاحبزادی اور سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کو 54 برس کی عمر میں 27 دسمبر 2007 کو راولپنڈی میں جلسے کے بعد دہشتگردوں نے شہید کر دیا۔

بیگم نصرت بھٹو اپنے شوہر کے وزیر اعظم رہنے تک سیاست میں سرگرم نہیں رہیں لیکن جیسے ہی ذوالفقار علی بھٹو کو ایک فوجی آمر ضیاالحق نے قید کیا تو ان کا سیاسی سفر شروع ہوا۔1979 میں جب ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی تو وہ پاکستان کی سیاست کا ایک نمایاں کردار بنیں ،فوجی ڈکٹیٹر ضیاء الحق کو پوری قوت کیساتھ للکارا اور جمہوریت کی مکمل بحالی تک ہار نہیں مانی۔ بیگم نصرت بھٹو 1979 سے 1983 تک پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن رہیں۔

بیگم بھٹو اپنے صاحبزادے میر مرتضی بھٹو کے قتل کے بعد ’الزائمر‘ نامی دماغی بیماری میں مبتلا ہوگئیں۔ طبی ماہرین کے مطابق الزائمر کی وجہ سے انسان کی یاداشت اور سوچنے کی صلاحیت آہستہ آہستہ ختم ہوجاتی ہے۔بیگم نصرت بھٹو نے اپنی زندگی کے آخری برس دبئی میں گزارے۔
بیگم نصرت بھٹوکی برسی پر اپنے پیغام میں سابق صدر اور کوچئیرمین پاکستان پیپلز پارٹی آصف علی زرداری نے انہیں زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ مادر جمہوریت کی ملک ، آئین اور جمہوریت کیلئے خدمات رہتی دنیا تک یاد رکھی جائیں گی ۔مادر جمہوریت دنیا کی سیاسی تاریخ کی واحد قائد ہیں جنہوں نے ملک ، عوام ،آئین اور جمہوریت کے لیے اپنا گلشن قربان کردیا ، سابق صدر نے اپنے پیغام میں کہا ہے سیاست میں صبر اور برداشت کا اصول بھی مادر جمہوریت بیگم نصرت بھٹو نے دیا تھا ، انہوں نے مشکلات کا صبر سےمقابلہ کرنے اور غاصب کی آمریت سے لڑنا سکھایا ، آصف زرداری نے کہا کہ ہم مادر جمہوریت کی روح سے وعدہ کرتے ہیں کہ ان کے بتائے ہوئے راستے پر ثابت قدم رہیں گے۔
Comments are closed.