اسلام آباد: ریڈیو پاکستان کی افسر شاہی ریاستی ادارے کو تباہی کے دہانے پر لے آئی، تین ماہ کی تنخواہیں دبانے کے بعد ایک اور ظالمانہ اقدام اٹھاتے ہوئے ریڈیو پاکستان کے 749ملازمین کو نوکریوں سے نکال دیا گیا۔
ریڈیو پاکستان کی افسر شاہی ریاستی ادارے کو مکمل تباہ کرنے پر تل گئی، ضرورت سے کئی گنا زیادہ انتظامی عملے کی چھانٹیوں کی بجائے ریڈیو پاکستان کا مائیک چلانے والوں کو نوکریوں سے نکال دیا گیا۔ کسی نوٹس کے بغیر ملازمت سے نکالے جانے والے 749 ملازمین کو برخاستگی کا حکمنامہ بھجوا دیا گیا۔
پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن (ریڈیو پاکستان) کے ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن ایس ایم رضا عباس کی جانب سے جاری مراسلے کے مطابق مختلف شعبہ جات سے وابستہ 749 ملازمین کو فوری طور پر ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے۔ نکالے جانے والوں میں کنٹریکٹ اور ڈیلی ویجز ملازمین شامل ہیں۔
حکمنامے کے مطابق شعبہ پروگرامنگ سے 531 کو نکالا گیا ہے، برخاست کیے جانے والوں میں سے 177 کا تعلق شعبہ نیوز سے ہے جب کہ 41 ملازمین ویب ڈیسک اور دیگر شعبہ جات سے ہے۔ ملازمت سے برخاستگی کے احکامات ہرملازم کو انفرادی طور پر بھی بھجوا دیئے گئے ہیں۔
مراسلے کے مطابق ایسے ملازمین جن کی جانب سے ملازمت کی مستقلی کے لئے دائر مقدمہ لاہور ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے انہیں برخاست نہیں کیا گیا، تاہم دیگر 749 افراد کو بغیر کسی پیشگی نوٹس کے ملازمتوں سے محروم کر دیا گیا ہے۔ریڈیو پاکستان کی انتظامیہ کی جانب سے ظالمانہ اقدام ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب چند سو روپے یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ان سینکڑوں افراد کو تین تین ماہ سے تنخواہیں بھی ادا نہیں کی گئیں۔

واضح رہے کہ ریڈیو پاکستان کی انتظامیہ کی کرپشن اور مالی بے ضابطگیاں عروج پر ہیں، مختلف کاموں کے نام پر کروڑوں روپے کی بدعنوانی کے مقدمات اور انکوائریز چل رہی ہیں، ریاستی ادارے کو چلانے والے شعبے نیوز روم میں پہلے انتہائی کم افرادی قوت تھی، جب کہ مختلف ادوار میں سفارش اور پرچی پر انتظامی شعبوں میں ضرورت سے تین گنا زیادہ سٹاف رکھا گیا ہے۔
Comments are closed.