اسلام آباد: سانحہ آرمی پبلک اسکول کو سات برس بیت گئے ۔ 2014 میں ہونے والے اس دلخراش واقعے کے بعد پاک فوج نے پوری قوم کی حمایت سے دہشتگرد و ں کا سر کچلنے کے لیے فیصلہ کن جنگ کا آغاز کیا۔معصوم بچوں کی قربانی نے پوری قوم کو دہشت گردی اورانتہا پسندی کے خلاف یکجا کر دیا جس کے نتیجے میں وطن عزیز کے کونے کونے میں ریاست کی رٹ بحال ہو چکی ہے۔
واقعے میں ملوث 9 دہشت گرد موقع پر ہی ہلاک ہو ئے جبکہ گرفتار چھ دہشتگردوں میں سےپانچ کو پھانسی دی جا چکی ہے جبکہ ایک کا کیس سُپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔وفاقی و صوبائی حکومتیں اور پاک فوج کی جانب سے ابتک 1545ملین روپے سے زائد رقم شہدا کے لواحقین اور متاثرین کی دادرسی کیلئے خرچ کی جا چکی ہے۔
اے پی ایس واقعے کے بعد پاک فوج نے پوری قوم کی حمایت سے دہشتگرد و ں کا سر کچلنے کے لیے فیصلہ کن جنگ کا آغاز کیا۔ 50 بڑے اور1200سے زائد چھوٹے آپریشن کئے گئے اور ان کے نتیجے میں 46000مربع کلو میٹر کا ایریا کلئیر کیا گیا جبکہ 18000سے زائد دہشت گرد مارے گئے۔ ملک کے اندر جہاں آپریشن ضرب عضب اور آپریشن رد الفساد کے ذریعے دہشتگرد وں کا خاتمہ کیا گیا وہیں سرحد پار سے دہشتگردون کی نقل و حرکت روکنے کےلیے 2611کلو میٹر بارڈر فینسنگ کا بیڑہ اُٹھایا گیا۔نیشنل ایکشن پلان کے تحت سات بڑی دہشتگرد تنظیموں کا بھی قلع قمع کیاگیا۔
Comments are closed.