اسلام آباد: سپریم کورٹ نے اسلام آباد کے زرعی فارم ہاؤسز میں تعمیرات کو ریگولرائز کرنےکاحکم دیتے ہوئے معاملہ نمٹا دیا ہے، عدالت عظمیٰ نے قرار دیا ہے کہ 12 ہزار500 مربع فٹ سے اضافی تعمیرات جرمانہ ادا کرنا ہوگا جب کہ 50 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی رہائش گاہیں بنانے والے ڈیڑھ سال کے اندر اقساط میں ادائیگی کریں گے۔
چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے اسلام آباد کے زرعی فارمز میں اضافی تعمیرات سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ عدالت نے فارم ہاؤسز پر تعمیرات کی حد 12 ہزار 500 مربع فٹ رکھی تھی، اس سے زائد عمارات گرائی جائیں گی، تاہم برآمدے 12500 فٹ میں شامل نہیں ہونگے۔ جن لوگوں نے گھر بنا لیے ہیں ان کی انسٹالمنٹ بھی ہونی چاہیے۔
سپریم کورٹ کے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ مقررہ حد سے کم رقبہ پر موجود عمارت کو ریگولرائز کیا جائے، برآمدے کے علاوہ زائد تعمیرات پر جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔۔جس عمارت کی قیمت 50 لاکھ سے زائد ہے اسکی ادائیگی ڈیڑھ سال کے اندر قسطوں میں ہوگی۔ سپریم کورٹ نے اسلام آباد کے زرعی فارمز سے متعلق کیس نمٹا دیا ہے۔
Comments are closed.