سیلاب متاثرین کی بحالی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے:وزیراعظم شہباز شریف

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سیلاب متاثرین کے لیے ریلیف اور بحالی کی کارروائیاں مزید تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک متاثرہ شہری اپنے گھروں اور کھیتوں میں واپس نہیں لوٹتے، حکومت چین سے نہیں بیٹھے گی۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کی آواز

وزیراعظم نے کہا کہ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں انہوں نے دنیا کو باور کرایا کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والی قدرتی آفات کا سب سے زیادہ شکار ہو رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی برادری کو پاکستان کے ساتھ تعاون بڑھانا ہوگا تاکہ متاثرین کی بحالی کو یقینی بنایا جا سکے۔

ہدایات اور اقدامات

وزیراعظم نے وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال کو امدادی کارروائیوں اور بحالی کے عمل کی کڑی نگرانی کرنے اور باقاعدگی سے جائزہ اجلاس بلانے کی ہدایت کی۔ ساتھ ہی چیئرمین این ڈی ایم اے کو صوبوں اور پی ڈی ایم ایز کے ساتھ قریبی تعاون یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی۔

انہوں نے حکم دیا کہ متاثرہ فصلوں اور بنیادی ڈھانچے کے نقصانات کا تخمینہ فوری طور پر مکمل کیا جائے تاکہ بحالی اور امداد کے لیے جامع منصوبہ بندی کی جا سکے۔ وزیراعظم نے ایم-5 موٹر وے کے دریائے ستلج کے سیلاب سے متاثرہ حصے کی فوری بحالی کے لیے این ایچ اے کو بھی ہدایات جاری کیں۔

بیماریوں سے تحفظ اور کسانوں کے لیے اقدامات

وزیراعظم نے کہا کہ پانی سے پھیلنے والی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے فصلوں کی بحالی اور مستقبل میں موزوں فصلوں کی کاشت کے لیے بھی خصوصی اقدامات کی ہدایت دی تاکہ کسانوں کو فوری سہارا دیا جا سکے۔

اجلاس کی تفصیلات

وزیراعظم نے ویڈیو لنک کے ذریعے جائزہ اجلاس کی صدارت کی جس میں چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے نمائندے شریک ہوئے۔ چیئرمین این ڈی ایم اے نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اب تک ساڑھے تین لاکھ متاثرین امدادی کیمپس سے اپنے گھروں کو واپس جا چکے ہیں، سندھ میں کچھ متاثرین اب بھی کیمپس میں موجود ہیں لیکن سیلابی پانی کے تیزی سے اترنے کے بعد ان کی بھی واپسی جلد ممکن ہوگی۔

اجلاس میں پنجاب حکومت کے اقدامات کو سراہا گیا اور کسانوں کے لیے مزید ریلیف پیکجز پر غور کیا گیا۔ وزیراعظم نے آئندہ ایک ہفتے کے اندر نقصانات کے تخمینے اور بحالی کے لائحہ عمل پر ایک جامع رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی۔

Comments are closed.