اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے بلیک لسٹ کو غیر قانونی قرار دے دیا۔ اجلاس میں انکشاف ہواکہ پندرہ افراد کے نام بلیک لسٹ میں شامل ہیں۔۔وفاقی وزیر انسانی حقوق شریں مزاری کہتی ہیں جمہوری دور میں بلیک لسٹ قبول نہیں۔ رضا ربانی نے کہا بتایا جائے بلیک لسٹ نے جنم کہاں سے لیا۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں ہوا، چیئرمین کمیٹی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ15 ہزار پاکستانیوں کے نام بلیک لسٹ میں ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ ای سی ایل کے ہوتے ہوئے بلیک لسٹ کی قانون میں کوئی گنجائش نہیں۔ شیریں مزاری نے کہا کہ بطور وزیرانسانی حقوق بلیک لسٹ کی مخالفت کرتی ہوں،جمہوریت میں بلیک لسٹ کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔
شہریوں کے نام بلیک لسٹ میں نام ڈالنے کے معاملے پر ڈی جی ایف آئی اے نے اجلاس کو بتایاکہ بیرون ممالک غیرقانونی کام کرنے والوں اور غیرقانونی طریقے سے باہرجانے والے کا نام بلیک لسٹ میں ڈالا جاتا ہے، حمزہ شہباز کا نام احتساب عدالت کی سفارش پربلیک لسٹ میں ڈالا گیا۔سینیٹر رضا ربانی نے کہاکہ ہمیں بے وقوف نہ بنایا جائے، ،آپ یہ تسلیم کریں کہ بلیک لسٹ کا کوئی قانون موجود نہیں ۔یہ انسانی حقوق کا مسلہ ہے ۔ بتا یاجائے بلیک لسٹ نے کہاں سے جنم لیا اور اس پر کام کون کرتاہے؟چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ سمجھ آ گئی کہ بلیک لسٹ سے متعلق آج تک جن لوگوں کو روکا گیا وہ غیرقانونی تھا۔
وفاقی وزیر شیریں مزاری نے کہاکہ ہمیں بلیک لسٹ کے بارے میں معلوم ہی نہیں تھا۔ جمہوری دور میں بلیک لسٹ قبول نہیں کی جا سکتی۔
سینیٹر مظفر حسین شاہ نے کہاکہ بلیک لسٹ کے غیرقانونی ہونے کی رپورٹ سینیٹ میں پیش کریں گے،سینیٹ جو تجویز کرے گا اس کے بعد قانون سازی کی جائے۔
Comments are closed.