اسلام آباد: چیف جسٹس ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ ڈیمز کے معاملے پر ان کی مخالفت میں ٹی وی پروگرامز سے انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا، کہتے ہیں ایجنڈا صرف پاکستان ہے،ملکی مفاد کے خلاف بات کرنے والوں کو نہیں چھوڑیں گے۔
چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے جنگ گروپ کے سیلز ٹیکس معاملات سے متعلق کیس کی سماعت کی،وکیل نے موقف اپنایا کہ ان کا میڈیاگروپ ٹیکس نادہندہ نہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ڈیفالٹ توکیا ہے ڈیم فنڈ میں ایک ٹکا جمع نہیں کرایا،،، اس حوالے سے میراتھون ٹرانسمیشن کی ہے؟ چیف جسٹس نے دنیا نیوز کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی آبی کانفرنس کی سب سے اچھی کوریج دنیا میڈیا گروپ نے کی۔ روزنامہ دنیا نے 4 صفحات پرمشتمل سپلیمنٹ بھی شائع کیا۔
جیونیوز کے نمائندہ کہا کہ انہوں نے بھی بھی واٹر کانفرنس کی کوریج کی ہے، جس پرچیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جیو ٹی وی کوریج نہ کرتا، کیا اسے پانی کی ضرورت نہیں پڑنی؟چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ انکی مخالفت میں شاہ زیب خانزادہ سے دو چار اور پروگرام کروالیں، اس سے انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ مخالفت کرنےوالوں کویہ بھی سوچناچاہیےکہ پانی نہیں ہوگاتو وہ بھی متاثرہوںگے۔
چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ان کا ایجنڈا پاکستان ہے، ملکی مفاد کے خلاف بات کرنے والوں کو نہیں چھوڑیں گے، وہ ذات پر بات برداشت کر سکتے ہیں لیکن پاکستان کیخلاف برداشت نہیں کریں گے۔ عدالت نے ٹیکس معاملات پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور سندھ ریونیو بورڈ کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے ایک ہفتے میں جواب طلب کرلیا ہے۔
Comments are closed.