مہاجرین مقبوضہ کشمیر نے آبادکاری کے نام پر فیصلوں کو مستردکردیا

مہاجرین مقبوضہ کشمیر نے حکومت آزاد کشمیر کے محکمہ بحالیات کی مہاجرین کو اعتماد میں لئے بغیر آبادکاری کے نام پر فیصلوں کو مسترد کیا ہے۔ حکومت آزاد کشمیر بہت ہی سنجیدگی اور گہرا ئی سے "مہاجرین جموں کشمیر "1989 کے مسائل کا سنجیدگی سے جائزہ لے اور انہیں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر حل کرے۔

ان خیالات کا اظہار حزب سربراہ اور متحدہ جہاد کو نسل کے چیر مین سید صلاح الدین احمد نے ذرائع ابلاغ کے نام جاری کیے گئے اپنے ایک بیان میں کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت آزاد کشمیر آبادکاری کے نام پر ایسے فیصلے اور اقدامات سے گریز کرے جو مہاجرین مقبوضہ جموں و کشمیرمیں مایوسی اور بد اعتمادی کی فضا پیدا ہونے کا باعث بنیں۔ ایک طرف فسطائی نریندرامودی 40لاکھ سے زائد غیر کشمیریوں کو غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر کے ڈومیسائل جاری کرکے ریاست کے مسلم تشخص کو مٹانے کے درپے ہے تو دوسری طرف یہاں مہاجرین کے آٹھ ہزار خاندان آزاد کشمیر میں ڈومیسائل اور دیگر سہولیات سے محروم رکھے جا رہے ہیں،جو حد درجہ افسوسناک عمل ہے۔

متحدہ جہاد کونسل کے سربراہ نے واضح کیا کہ حکومت آزاد کشمیر مہاجرین کی باعزت آبادکاری، ڈومیسائل کی فراہمی، مہاجر بستیوں کے حقوق ملکیت اور دیگر مطالبات کو فوری طور پر تسلیم کرکے ان اقدامات کو قانونی اور آئینی تحفظ بھی فراہم کریں۔مہاجرین مقبوضہ جموں و کشمیر نے تحریک آزادی کشمیر میں بے مثال اور لازوال قربانیاں دی ہیں اور آج بھی قربانیوں کی ایک عملی مثال بنے ہوئے ہیں،لہذا دانش مندی کا تقاضا ہے کہ ان عظیم قربانیوں کی لاج رکھتے ہوئے مہاجرین دوست اقدامات کرکے لٹے پٹے اور اپنے گھر بار چھوڑنے والے مقبوضہ جموں و کشمیر کے باسیوں کی دلجوئی کی جائے۔

Comments are closed.