امریکی انتخابات میں چین کسی بھی مداخلت سے باز رہے: صدر بائیڈن

امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے ایک بار پھر چینی ہم منصب شی جن پنگ کو نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں مداخلت کے خلاف خبردار کیا ہے۔

وائٹ ہاؤس نے دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو سے متعلق کہا ہے کہ یہ امریکی کوششوں کا حصہ ہے جن کا مقصد دونوں ملکوں میں غیر ارادی طور پر ہونے والے تنازعات کو روکنا ہے۔

امریکی حکومت کے ایک سینئر اہلکار نے پیر کو رہنماؤں کی بات چیت کا جائزہ لیتے ہوئے ایک بریفنگ میں صحافیوں کو بتایا کہ امریکہ نے چینی انتخابی مداخلت کے خلاف اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

بائیڈن نے آخری مرتبہ گزشتہ برس نومبر میں امریکی ریاست کیلی فورنیا میں شی جن پنگ کے ساتھ اپنی ملاقات میں یہ معاملہ اٹھایا تھا۔

بیجنگ نے بارہا کہا ہے کہ اسے امریکہ کے اندرونی معاملات میں مداخلت میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔

امریکی حکومت کے سینئر افسر نے کہا ہے کہ "مجھے نہیں لگتا کہ ہم چین کی بات کو ان کے کہنے پر تسلیم کرتے ہیں جب وہ کہتے ہیں کہ وہ کچھ کریں گے یا نہیں۔”

ان کے بقول یہ تصدیق کرنے کا معاملہ ہے۔

خیال رہے کہ فروری میں جاری کردہ امریکی انٹیلی جینس کے ایک تجزیے نے چین کے اثرانداز ہونے کے بارے میں خبردار کیا تھا جن میں مصنوعی ذہانت کا استعمال بھی شامل ہے۔

مزید خبروں کیلئے وزٹ کریں

Comments are closed.